11 اگست 2026 - 17:27
افغانستان میں شیعہ آبادی پر طالبان کا ایک اور دباؤ؛ غزنی کے نوآباد کے رہائشیوں کو ایک ہفتے میں گھر خالی کرنے کا حکم

مقامی ذرائع کے مطابق طالبان نے غزنی کے نوآباد ٹاؤن شپ کے رہائشیوں کو، جہاں زیادہ تر ہزارہ اور شیعہ خاندان آباد ہیں، گھر خالی کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔ ذرائع نے جبری بے دخلی کی دھمکی دیے جانے کی بھی اطلاع دی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، افغانستان کے مقامی ذرائع اور بعض افغان ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ طالبان نے غزنی کے نوآباد ٹاؤن شپ کے رہائشیوں کو اپنے گھر خالی کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کی غزنی میں زمینوں پر قبضے کی روک تھام کے کمیشن کے سربراہ قاری اسماعیل شکیب نے اتوار، 9 اگست کو اس ٹاؤن شپ کے بعض گزر وکیلوں اور عوامی نمائندوں کو طلب کرکے خبردار کیا کہ مقررہ مدت میں گھروں اور دکانوں کو خالی نہ کرنے کی صورت میں انہیں جبری طور پر بے دخل کردیا جائے گا۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ نوآباد کے رہائشیوں کی اکثریت ہزارہ اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔ رہائشیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے حقوق کا دفاع کریں گے اور اپنے گھروں کو خالی نہیں کریں گے۔

نوآباد ٹاؤن شپ غزنی شہر کے چھٹے ضلع میں واقع ہے اور کئی برس سے سیکڑوں شیعہ خاندانوں کا مسکن ہے۔ طالبان اس سے قبل اس ٹاؤن شپ کی تقریباً 1843 جریب اراضی کو ’’سرکاری زمین‘‘ قرار دے چکے ہیں اور اب رہائشیوں پر زمینیں خالی کرنے یا انہیں جبری طور پر دوبارہ خریدنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا گیا ہے۔

طالبان کی جانب سے یہ دباؤ ایسے وقت میں جاری ہے جب حال ہی میں مغربی کابل کے امید سبز ٹاؤن شپ، جسے حاجی نبی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے رہائشیوں کو بھی علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

امید سبز بھی بنیادی طور پر ہزارہ اور شیعہ آبادی پر مشتمل علاقہ ہے اور نوآباد غزنی کی طرح یہاں بھی طالبان نے زمینوں پر قبضے کا الزام عائد کرتے ہوئے اراضی کو سرکاری ملکیت قرار دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha